الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ باب: رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّهَا تَدُورُ مِنَ السَّنَةِ فَمَشَيْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ وَرَجَعْنَا مَعَهُ، وَأُرِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيَتْ، فَقَالَ: ((إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَأَرَانِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهَا وَهَاجَتْ عَلَيْنَا السَّمَاءُ آخِرَ تِلْكَ الْعَشِيَّةِ، وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ عَرِيشًا مِنْ جَرِيدٍ، فَوَكَفَ، فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمُهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَإِنَّ جَبْهَتَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ))۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں شب ِ قدر کا تذکرہ ہوا۔ تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ سارے سال میں گھومتی ہے۔ یعنی کبھی کسی مہینہ میں آتی ہے اور کبھی کسی مہینہ میں۔ تو ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے۔ میں نے کہا: ابوسعید رضی اللہ عنہ ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب ِ قدر کے متعلق کچھ سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا۔ اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا۔جب بیس کی صبح ہوئی تو آپ اور ہم سب اعتکاف سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب ِ قدر کے متعلق حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ علم بھلا دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب ِ قدر کو دیکھا پھر مجھے وہ بھلوا دی گئی۔ اس رات میں نے خود کو دیکھا کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ واپس آجائیں۔ اب اس رات کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کریں۔ اس دن کے آخری حصہ میں ہم پر آسمان خوب برسا۔ مسجد کی چھت شاخوں کی تھی۔ وہ بہہ پڑی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت سے نوازا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب نازل کی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔