الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ وَذِكْرِ أَمَارَاتِهَا باب: شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4023
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ((هِيَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا فِي وِتْرٍ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَهَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَمَا تَأَخَّرَ)))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ انتیس روزوں کے بعد چاند کی نظر آنے کی توقع ہوتی ہے، اس لیے انتیسویں رات کو آخری رات قرار دیا گیا ہے۔