حدیث نمبر: 4023
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ((هِيَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا فِي وِتْرٍ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَهَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَمَا تَأَخَّرَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ انتیس روزوں کے بعد چاند کی نظر آنے کی توقع ہوتی ہے، اس لیے انتیسویں رات کو آخری رات قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4023
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن دون قوله: ’’او في آخر ليلة‘‘، وھذا اسناده فيه عبد الله بن محمد بن عقيل ضعيف، وعمر بن عبد الرحمن لم يرو عنه غير ابن عقيل، فھو في عداد المجھولين، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ أخرجه الشاشي في ’’مسنده‘‘: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23143»