حدیث نمبر: 4020
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … بھول جانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُدھر مصروف ہوئے تو شب ِ قدر کی علامتیں بھلا دی گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4020
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني: 12621 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2352»