حدیث نمبر: 4008
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔

وضاحت:
فوائد: … اعتکاف کا محل مسجد ہی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) … ’’عورتوںسے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو۔‘‘ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کی مردوں اور عورتوں میں جائے اعتکاف کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے، جو خواتین اعتکاف کرنے کی خواہش مند ہوں، وہ مسجد میں ہی اعتکاف کریں۔ عہد ِ نبوی میں عورتوں کا اعتکاف بھی مسجد میں ہی ہوتا تھا، اگر کسی علاقے میں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو خواتین اعتکاف نہ کریں، فتنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ مسئلہ کو تبدیل کر کے گھروں میں اعتکاف کا اہتمام شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4008
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2026، ومسلم: 1171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25120»