الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ الدُّخُولِ فِي الْمُعْتَكَفِ وَاسْتِحْبَابِ قَضَاءِ الِاعْتِكَافِ أَوْقَاتٍ مَنْ اعْتَادَهُ باب: جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3999
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، فَمَاتَ حِينَ مَاتَ يَعْتَكِفُ عِشْرَيْنِ يَوْمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری اور درمیانی دو عشروں کا اعتکاف کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بیس دنوں کے اعتکاف کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر کے آخری حصے میں زیادہ خیر و بھلائی جمع کرنے کے لیے اعتکاف کی مقدار میں اضافہ کیا۔
(۲)ممکن ہے کہ اس باب کی دوسرییا تیسری حدیث کے مطابق دی گئی قضائی ان ہی دنوں پیش آئی ہو۔
(۳) ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کیا کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات والے سال میں یہ دور دو دفعہ کیا تھا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس روز کا اعتکاف کیا ہو۔ جو معنی بھی کیا جائے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تسلیم شدہ ہے کہ اعتکاف کی قضائی دینا بھی درست ہے اور دس دنوں سے زیادہ اعتکاف کرنا بھی درست ہے۔
(۲)ممکن ہے کہ اس باب کی دوسرییا تیسری حدیث کے مطابق دی گئی قضائی ان ہی دنوں پیش آئی ہو۔
(۳) ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کیا کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات والے سال میں یہ دور دو دفعہ کیا تھا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس روز کا اعتکاف کیا ہو۔ جو معنی بھی کیا جائے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تسلیم شدہ ہے کہ اعتکاف کی قضائی دینا بھی درست ہے اور دس دنوں سے زیادہ اعتکاف کرنا بھی درست ہے۔