الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ الدُّخُولِ فِي الْمُعْتَكَفِ وَاسْتِحْبَابِ قَضَاءِ الِاعْتِكَافِ أَوْقَاتٍ مَنْ اعْتَادَهُ باب: جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3998
عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرَيْنَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقیم ہوتے تو ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے، لیکن اگر اس دوران سفر پر چلے جاتے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف رہ جائے تو اگلے رمضان میںیا اس سے پہلے کسی اور مہینے میں اس کی قضائی دی جا سکتی ہے۔