الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وَقْتِ الدُّخُولِ فِي الْمُعْتَكَفِ وَاسْتِحْبَابِ قَضَاءِ الِاعْتِكَافِ أَوْقَاتٍ مَنْ اعْتَادَهُ باب: جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: ((آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟)) فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نمازِ فجر پڑھنے کے بعد جائے اعتکاف میں داخل ہوتے ، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا ارادہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر ایک خیمہ نصب کر دیا گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا،پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا، جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دیا، پس ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حال دیکھا تو فرمایا: کیا تم نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا اور (اس کی قضائی دیتے ہوئے) شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
(۲)اعتکاف کا آغاز ہی نمازِ فجر سے ہوتا ہے، یہ امام اوزاعی اور امام ثوری وغیرہ کا خیال ہے۔