حدیث نمبر: 3992
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَاتُّخِذَ لَهُ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ، قَالَ: فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھجور کی شاخوں کا ایک حجرہ بنایا گیا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرے سے سر نکالا اور فرمایا: بے شک نمازی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، تم میں سے ہر ایک کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کس قسم کی مناجات کر رہا ہے اور کوئی آدمی دوسرے کے پاس بلند آواز میں قراء ت نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … کسی نمازی کے پاس بآواز بلند قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی منع ہے، اس سے ان لوگوں کو اپنی حماقت کا اندازہ کر لینا چاہیے جو مسجدوں میں گپیں لگاتے ہیں، جبکہ ان کے ارد گرد لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ معتکف خیر و بھلائی والی باتیں کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3992
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 488، والبزار: 726، وابن خزيمة: 2237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5349»