الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فَضْلِ الِاعْتِكَافِ وَبَيَانِ زَمَانٍ وَمَكَانٍ باب: اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
حدیث نمبر: 3991
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ، إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُوهُمْ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض لوگ مسجد نشیں ہوتے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشیں ہوتے ہیں‘ اگر وہ غائب ہو جائیں تو وہ انھیں تلاش کرتے ہیں‘ اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو وہ ان کی تیمار داری کرتے ہیں اور اگر انھیں کوئی ضرورت ہو تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … نوری مخلوق بھی خاکی مخلوق کی خادم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی جائے۔ اس سے بڑھ کر کیا کہا جائے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، مومنوں کی سجدہ گاہ ہے، وہ کتنی مبارک و مقدس جگہ ہو گی، جہاں برس ہا برس سے اللہ تعالیٰ کی تہلیلات، تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جہاں سالہا سال سے اس کے ترتیب شدہ کلام قرآن مجید کی کثرت سے تلاوتیں کی جا رہی ہیں، شیطانوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ مسجد ہے۔ جو مسجد سے محبت کرے گا، جو مسجد کو آباد کرنے میں حصہ ڈالے گا، جس کو وہاں سکون نصیبہو گا، وہ کتنا سعادت مند اور خوش نصیب ہو گا۔لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، تو مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی میں یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے … … اس کے خام دماغ نے فیصلہ کر دیا ہے اور یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور پھر منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات معمولات کا جائزہ لیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِ اِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (بخاری، مسلم) … ’’اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔‘‘
جہاں ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن وہاں اس بات کو ہرگز نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے سے تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہم سے شکوہ کناں ہوں۔ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے اور اس کے لیے عجیب قسم کی رغبت چاہیے کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھ کر سکون محسوس کرتا ہے اور جب وہ دنیاوی تقاضے پورے کرنے کے لیے جا رہا ہوتا ہے تو اس کا دل مسجد میں ہی لٹکا رہتا ہے، عام نمازی اس شرف سے محروم رہتے ہیں۔
جہاں ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن وہاں اس بات کو ہرگز نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے سے تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہم سے شکوہ کناں ہوں۔ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے اور اس کے لیے عجیب قسم کی رغبت چاہیے کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھ کر سکون محسوس کرتا ہے اور جب وہ دنیاوی تقاضے پورے کرنے کے لیے جا رہا ہوتا ہے تو اس کا دل مسجد میں ہی لٹکا رہتا ہے، عام نمازی اس شرف سے محروم رہتے ہیں۔