الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ لِلْحَاجِّ باب: حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3990
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ، (وَفِي لَفْظٍ: أَهْلُ بَيْتٍ) يُقْتَدَى بِكُمْ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَشَرِبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرفہ کے دن اپنے بھائی عبید اللہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں، یہ سن کر انھوں نے کہا: : تم لوگ تو دوسروں کے پیشوا اور اہل بیت ہو، اس وجہ سے تمہاری اقتدا کی جاتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کو دودھ منگوا کر پیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین نے حج کے موقع پر عرفہ والے دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ البتہ حج تمتع کرنے والے جس حاجی کے پاس ہدی کاجانور نہیں ہو گا، وہ ذوالحجہ کی (۹، ۱۱، ۱۲، ۱۳) تاریخوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔