الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ لِلْحَاجِّ باب: حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3989
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرفہ کے دن سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اس دن کو روزہ نہ رکھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسی دن کو دودھ پیش کیا گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا لیا تھااور لوگ بھی تمہاری اقتداء کرتے ہیں۔