الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ لِلْحَاجِّ باب: حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3987
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أُمِّ بَنِي الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَكُّوا (وَفِي لَفْظٍ تَمَارَوْا) فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں یہ شک ہونے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ میں نے کہا: میں تمہیں پتہ کرا دیتی ہوں، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا۔