حدیث نمبر: 3980
عَنْ عَطَاءِ نِ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفْطِرِي، فَقَالَتْ: أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس عرفہ کے دن گئے جبکہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور (گرمی کی شدت کی وجہ سے) ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ روزہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے کہا: میں روزہ کیسے توڑ دوں، جبکہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: عرفہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں، اس دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3980
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25483»