حدیث نمبر: 3976
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِصِيَامٍ، قَالَ: ((صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ((صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَمَا زَالَ يَحُطُّ لِي، حَتَّى قَالَ: ((إِنَّ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ أَوْ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ شَكَّ الْجُرَيْرِيُّ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا))، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا ضَعُفَ: لَيْتَنِي كُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی داود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3976
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھو حديث ذكره الامام احمد في عدة اماكن، أخرج بعض لفظه البخاري و مسلم، وانظر لتفصيله الرقم: 6477 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6877»