حدیث نمبر: 3975
عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَعَمْ، قَالَ: ((فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ((فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ((صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ))، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ (عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ) قَالَ: ((كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! داود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3975
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1975، 5199، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6867»