حدیث نمبر: 3974
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … داود علیہ السلام ایک تہائی رات قیام کرتے تھے، اگر چھ گھنٹے کی رات ہو تو وہ تین گھنٹے سوتے تھے، دو گھنٹے قیام کرتے تھے اور پھر ایک گھنٹہ سو جاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1131، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6491»