حدیث نمبر: 3972
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَيَتَحَرَّى الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان کے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ سوموار اورجمعرات کے روزے رکھتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَیَغْفَرُلَہٗ، وَمِنْ تَائِبٍ فَیُتَابُ عَلَیْہِ، وَیُرَدُّ اَھْلُ الضَّغَائِنِ بِضَغَائِنِھِمْ حَتّٰییَتُوْبُوْا۔)) ’’سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کی جاتی ہے، البتہ کینہ والوں کو ان کے کینہ سمیت اس وقت تک ردّ کر دیا جاتا ہے، جب تک وہ توبہ نہیں کر لیتے۔‘‘ (طبرانی وقال المنذری: رواتہ ثقات)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کے نامۂ اعمال میں استغفار اور توبہ کا وجود بھی ہونا چاہیے، تاکہ اسے بخش دیا جائے۔ ان احادیث سے سوموار اور جمعرات کے روزوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، حدیث نمبر (۳۸۸۶) کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کو روزہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے: ’’ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیْہِ، وَاُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ۔‘‘ ’’یہ ایسا دن ہے، جس میں میں پیدا ہوا اور اس میں مجھ پر قرآن مجید اتارا گیا۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3972
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 203، والترمذي: 745، وابن ماجه: 1649، 1739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25013»