حدیث نمبر: 3971
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: ((إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ أَوْ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ، فَيَقُولُ: أَخِّرْهُمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار اور جمعرات کو کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسانوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان یا ہر مومن کو بخش دیتا ہے، ما سوائے ان دو آدمیوں کے کہ جن کے درمیان قطع تعلقی ہوتی ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ان کے معاملے کو مؤخر کر دو۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی کتنی کرم نوازی ہے کہ وہ بن مانگے بخش رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو ان کی قبیح صفات کی وجہ سے نہیں بخشا جاتا، ان کو فکر کرنی چاہیے، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قطع رحمی، دشمنی اور عداوت جیسے مذموم امور مسلمانوں میں عام ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3971
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8343»