الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ باب: سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى وَادِي الْقُرَى، يَطْلُبُ مَالًا لَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، قَدْ رَقَقْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ))۔ مولائے اسامہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کے روزے کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں۔