الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ صَوْمِ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ غَيْرِ مُعَيَّنَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ باب: ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي أَقْوَى، إِنِّي أَقْوَى، صُمْ يَوْمَيْنِ كُلِّ شَهْرٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((زِدْنِي، زِدْنِي، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ))۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)