حدیث نمبر: 3951
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي أَقْوَى، إِنِّي أَقْوَى، صُمْ يَوْمَيْنِ كُلِّ شَهْرٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((زِدْنِي، زِدْنِي، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … آخر ِ حدیث میں آپ کا دو دفعہ کہنا ’’مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں۔‘‘ یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی پر طنز کر رہے ہیں اور اس کو ڈانٹ رہے ہیں۔
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3951
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19261»