حدیث نمبر: 3946
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِينَا أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، وَيُذْهِبُ مَغَلَّةَ الصَّدْرِ))، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّةُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ((رِجْسُ الشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔

وضاحت:
فوائد: … اجر و ثواب کے علاوہ نیک عمل کی وجہ سے عامل کی روح اور جسم میں بھی برکت آتی ہے اور آدمی کئی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔روزے دار کو سوچنا چاہیے کہ جہاں وہ بڑا صبر کر کے روزے جیسا عظیم عمل کرتا ہے، وہاں اسے ایسی نیکیوں کو سر انجام دینے کے لیے اور ایسی برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ہمت کرنی چاہیے کہ جن کے لیے روزے سے کم صبر درکار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3946
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21691»