حدیث نمبر: 3945
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوا الطَّعَامَ وَكَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا جَاءَ، فَقَالُوا: هَلُمَّ فَكُلْ فَأَكَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّسُولِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ))، فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ، صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے، اس طرح ایک ماہ میں رکھے گئے تین روزوں کا ثواب ایک ماہ کے روزوں کی صورت میں ملے گا، اگر کوئی آدمی ایک ماہ میں تین روزوں کی عادت سے زندگی گزارتا ہے، تو اس کو ساری زندگی کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ یہ تین روزے مہینے میں کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے لیے سوموار اور جمعرات یا ایام بیضیا دوسرے مسنون معین دنوں کو تلاش کرکے تین روزے پورے کر لیے جائیں تو فضیلت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسا کہ اگلے باب کی بعض احادیث سے پتہ چلے گا۔ لیکن جن دنوں کے روزوں سے منع کیا گیا، وہ پابندی برقرار رہے گی،مثلا صرف جمعہ کا روزہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه الطيالسي: 2393، والبيھقي: 4/293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10673»