الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّوْمِ فِي النِّصْفِ الثَّانِي مِنْ شَعْبَانَ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3944
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: ((هَلْ صُمْتَ سَرَارَ هَذَا الشَّهْرِ (وَفِي لَفْظٍ: هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟)) يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَإِذَا أَفْطَرْتَ أَوْ أَفْطَرَ النَّاسُ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سےیا کسی اور سے پوچھا: کیا تم نے ماہِ شعبان کے وسط کے روزے رکھے تھے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ (رمضان کے روزوں سے) فارغ ہو جاؤ تو اس وقت دو دن کے روزے رکھ لینا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ’’سَرَارَ‘‘ کے معانی میں اختلاف ہے، ایک معنی ترجمہ میں بیان کیا گیاہے کہ اس سے مراد مہینے کا وسط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’سَرَر‘‘، ’’سرۃ‘‘ کی جمع ہے، اور ’’سرۃ الشیئ‘‘ چیز کے وسط کو ہی کہتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے وسط یعنی ایام بیض کے روزوں کی فضیلت بیان کی گئی، تیسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے آخری ایام میں روزوں کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ہے، بلکہ شعبان کے آخر میں تو روزے رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔
دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔