حدیث نمبر: 3942
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ((ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں شعبان میں روزے رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع بھی کیا ہے، جیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے معلوم ہو گا۔ جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔
ایک اشکال اور اس کا جواب: اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3942
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ اخرجه النسائي: 4/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»