حدیث نمبر: 3932
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُجِيبَةُ، عَجُوزٌ مِنْ بَاهِلَةَ عَنْ أَبِيهَا، أَوْ عَمِّهَا، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ مَرَّةً، فَقَالَ: ((مَنْ أَنْتَ؟)) قَالَ: أَوَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: ((وَمَنْ أَنْتَ)) قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ أَوَّلٍ، قَالَ: ((فَإِنَّكَ أَتَيْتَنِي وَجِسْمُكَ وَلَوْنُكَ وَهَيْئَتُكَ حَسَنَةٌ فَمَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى)) فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَفْطَرْتُ بَعْدَكَ إِلَّا لَيْلًا، قَالَ: ((مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، رَمَضَانَ))، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، فَقَالَ: ((فَصُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ))، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ((فَيَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ))، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ((وَمَا تَبْتَغِي عَنْ شَهْرِ الصَّبْرِ وَيَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ((فَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ))، قَالَ: وَالْحَمَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ فَمَا كَادَ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ((فَمِنَ الْحُرُمِ وَأَفْطِرْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیں یہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا : میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم۔ اس باب میں ان کے روزے خصوصیت کے ساتھ ثابت نہیں ہوئے، البتہ محرم کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور (۹) ذوالحجہ کی فضیلت پر مشتمل احادیث آگے آئیں گی۔ بنا ساعاتی نے کہا: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ رجب میں روزے رکھنا دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح مستحب ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3932
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «قال الالباني: ضعيف (سنن ابي داود: 2428)۔ اخرجه ابوداود: 2428، وابن ماجه: 1741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20589»