حدیث نمبر: 3930
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … سعید بن جبیریہ کہنا چاہتے ہیں کہ نہ تو رجب میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا اور نہ اس اعتبار سے اس کی کوئی فضیلت اور خصوصیت بیان کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کا معین اور مقرر اوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی روزے رکھ لیتے اور بسا اوقات یہ سلسلہ ترک کر دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3930
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1971، ومسلم: 1157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3009»