الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَنْ قَالَ إِنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ وَمَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ باب: محرم کی (۹)تاریخ کو یوم عاشوراء قرار دینے والوں اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3929
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درست معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلے ایک روزہ رکھ کر مشابہت کو ختم کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بعدمیں بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے جمعہ کے دن کے روزے کا مسئلہ ہے۔
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)