حدیث نمبر: 3927
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ)، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) إِذَا أَنْتَ أَهَلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ نہیں ہے کہ (۹) محرم یوم عاشوراء ہے، وہ درج ذیل حدیث اور اس کی تشریح میں مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محرم کی (۹) اور (۱۰) تاریخوں کا روزہ رکھا جائے۔ امام شوکانی نے کہا: زیادہ مناسب یہی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے اس دن کی طرف سائل کی رہنمائی کی ہے، جس میں روزہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لیےیوم عاشوراء کا تعین نہیں کیا کہ وہ محرم کا دسواں دن ہے، کیونکہ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہیں کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سائل کا مقصود یہ ہے کہ اس دن کا تعین کیا جائے جس کو روزہ رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے (۹) محرم کی بات کی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہنا کہ ’’جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہتے تو اسی طرح روزے رکھنے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی حدیث میں اسی چیز کی وضاحت کی تھی۔ (نیل الاوطار: ۴/ ۳۲۶)
درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2214»