الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَنْ قَالَ إِنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ وَمَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ باب: محرم کی (۹)تاریخ کو یوم عاشوراء قرار دینے والوں اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھنے کا بیان
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِهِ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَأَصْبِحْ مِنْهُ صَائِمًا، قُلْتُ: أَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔