الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي عَدَمِ تَأَكُّدِ صَوْمِهِ بَعْدَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3925
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ (بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: (( هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُفْرَضُ عَلَيْنَا صِيَامُهُ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُوْمَ فَلْيَصُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ )) فَصَامَ النَّاسُ مسند احمد: (16992)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہ یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اس لیے تم میں سے جو آدمی اس کا روزہ رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھے، البتہ میں تو روزے سے ہوں۔ پھر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں۴۴ھ میں پہلا اور ۵۷ھ میں آخری حج کیا تھا، حافظ ابن حجر کارجحان اس طرف ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آخری حج کے موقع پر مدینہ منورہ آ کر یہ حدیث بیان کی تھی، چونکہ ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری اور محرم پہلا مہینہ ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ادائے حج کے بعد یوم عاشوراء تک ٹھہریں ہوں گے۔