الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي عَدَمِ تَأَكُّدِ صَوْمِهِ بَعْدَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3922
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ سُئِلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هُوَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ تَعَالَى مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دورِ جاہلیت والے لوگ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔