الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي عَدَمِ تَأَكُّدِ صَوْمِهِ بَعْدَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3921
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي عَاشُورَاءَ: صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يَأْتِي عَلَى صَوْمِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یومِ عاشوراء کے بارے میں کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کو خود بھی روزہ رکھا تھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن جب ماہِ رمضان فرض ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔ پس سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دن کا روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، الّایہ کہ ان کے معمول کا دن اس رو ز کو آجاتا۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت باقی ہے، لیکن اب اس کے ساتھ (۹) محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم سے معلوم ہوتا ہے۔
عاشوراء کے حوالہ سے روزہ صرف نو محرم کا یا ساتھ ہی دس محرم کا بھی ہوگا اس کی بحث آگے آرہی ہے۔
عاشوراء کے حوالہ سے روزہ صرف نو محرم کا یا ساتھ ہی دس محرم کا بھی ہوگا اس کی بحث آگے آرہی ہے۔