الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي عَدَمِ تَأَكُّدِ صَوْمِهِ بَعْدَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3920
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ! ادْنُ لِلْغَدَاءِ، قَالَ: أَوْ لَيْسَ الْيَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَتَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا أُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: اشعت بن قیس عاشوراء والے دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابومحمد! کھانا کھانے کے لیے قریب آ جاؤ۔ اشعث نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ عاشوراء ہے کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضیت ِرمضان کے نزول سے قبل اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔