الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 3914
عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا: ((هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوا))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ، وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔