الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 3913
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ))، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ((فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)