الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 3912
عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ))، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ((فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔