الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 3911
عَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ وَجَدْتَّهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيَصُمْ آخِرَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہند بن اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔