حدیث نمبر: 3905
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟)) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ))، قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2004، ومسلم: 1130 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2831»