الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟)) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ))، قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔