حدیث نمبر: 3904
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا مِنَ الصِّيَامِ؟)) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ))، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصِّيَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3904
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الصمد بن حبيب وجھالة ابيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8702»