حدیث نمبر: 3903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22997»