حدیث نمبر: 3900
عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمِ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! آپ مجھے رمضان کے بعد کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، ما سوائے ایک آدمی کے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ماہِ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہِ محرم کے روزے رکھو، یہ اللہ کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی ماہ میں ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … تعظیم کے لیے ماہِ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔
جیسے بیت اللہ (اللہ کا گھر) کعبہ کے لیے ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے لیے اور روح اللہ (اللہ کی روح) عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بولتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3900
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق الواسطي وجھالة النعمان بن سعد۔ اخرجه الترمذي: 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1322»