الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فِي أَنَّ صَوْمَ التَّطَوُّعِ لَا يَلْزَمُ بِالشُّرُوعِ فِيهِ باب: نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3898
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن میرے ہاں تشریف لائے، آپ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پھر مجھے دے دیا ، میں نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی عبادت کرنے والا اپنا امیر خود ہوتا ہے، اس لیے اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو افطار کر دو۔