حدیث نمبر: 3897
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَتَّى قَعَدَتْ عَنْ يَسَارِهِ، وَجَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ فَقَعَدَتْ عَنْ يَمِينِهِ وَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِشَرَابٍ فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: ((أَشَيْءٌ تَقْضِينَهُ عَلَيْكِ؟)) قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((لَا يَضُرُّكِ إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، اتنے میں ایک لونڈی کوئی مشروب لائی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، اس نے (پینے کے بعد) کہا: میرا تو روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیایہ قضاء کا روزہ تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تجھے نقصان نہیں دے گا (یعنی کوئی حرج نہیں ہے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27436»