حدیث نمبر: 3895
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ، وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا وَاحِدًا غَيْرَ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں حکم دے دیتا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کی جائے اور جس عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیرایک دن کا روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ ماہِ رمضان ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جب بیوی نفلی روزہ رکھنا چاہے یا فرضی روزے کی قضائی دینا چاہے، دونوں صورتوں میں اس کو چاہیے کہ وہ خاوند سے اجازت لے، کیونکہ خاوند کا حق ان حقوق میں سے ہے، جو فوراً واجب ہو جاتے ہیں، جبکہ نفلی روزوں کو ترک کیا جا سکتاہے اور فرض روزوں کی قضائی کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بیویوں کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ان کے خاوندوں کا ان پر کتنا حق ہے۔ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کی ممانعت کی وجہ وظیفۂ زوجیت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3895
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7342، 7343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7338»