الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ باب: نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 3892
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: ((ادْنُيَا فَكُلَا))، قَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، قَالَ: ((ارْحِلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مَرُّ الظَّہْرَانِ کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکراور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ انہوں نے کہا: ہم تو روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگو! اپنے اِن ساتھیوں کو سواریاں دو اور ان کے حصے کا کام بھی کرو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ چونکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما روزے سے تھے، اس لیے دوسرے صحابہ کو چاہیے کہ وہ اِن کی خدمت کریں۔