حدیث نمبر: 3891
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْھِہٖسَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) ’’جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو وہ اس کے عوض آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔‘‘
’’فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں ’’فوائد ابی الطاھر الذھلی‘‘ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ’’جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔‘‘ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز بھی راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2840، ومسلم: 1153 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11581»