الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ جَامِعٍ لِبَعْضِ مَا يُسْتَحَبُّ صَوْمُهُ وَمَا يُكْرَهُ باب: ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 3889
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عرفہ کے دن روزہ رکھنا جائز ہے، بلکہ افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے، کھانے پینے کے دن عید اور تشریق کے دن ہیں، اغلبی طور پر اس کو بھی ساتھ ذکر کر دیا گیا۔ یہ دن بھی جمعہ کی طرح مسلمانوں کے لیے عید ہے، اگر حجاج کرام کو دیکھا جائے تو وہ اس دن کو عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، دوسرے لوگ عید اور قربانیوں کی تیاری میں عجیب فرحت و مسرت کے ساتھ یہ دن گزارتے ہیں، نیزیہ دن کئی فضائل سے بھی متصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی انداز اور ترتیب کے ساتھ نفلی روزے رکھا کرتے تھے، احادیث کی دوسری کتابوں میں ان کی تفصیل موجود ہے۔