حدیث نمبر: 3877
عَنْ حَسَّانِ بْنِ نُوحٍ الْحِمْصِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ؟ فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: ((إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میری یہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3877
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح، اخرجه ابوداود: 1726، وابن ماجه: 1726، والترمذي: 744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17842»