الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ باب: صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3876
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: أَسْمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ!ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عباد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن ر وزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے، البتہ درج ذیل روایت قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے ہر ماہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور جمعہ کے دن تو کم ہی افطار کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، نسائی) اگر درج بالا روایات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملاتے ہوں گے، تو بہتر ہو گا اور اس سے ساری نصوص پر عمل ہو جائے گا۔