حدیث نمبر: 3874
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجْرِيِّ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ((أَصُمْتِ أَمْسِ؟)) قَالَتْ: لَا، قَالَ: تَصُومِينَ (وَفِي لَفْظٍ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي) غَدًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَأَفْطِرِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ روزہ سے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر روزہ افطار کر لو۔

وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کی بھی نیت رکھتا ہو، بصورت ِ دیگر جب اس کو اس مسئلے کا پتہ چلے گا، تو وہ روزہ توڑ دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3874
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27291»